پاکستان میں زراعت کو درپیش مسائل انکا دیرپا اور پائیدار حل
تحر
یر : زین علی کندی ، نگران: ڈاکٹر گلفام حسن
پاکستان
کی معیشت زراعت پر منحصر ہے، اس شعبے کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ لوگوں کو
کھانا کھلاتا ہے ،صنعت کے لیے خام مال فراہم کرتا ہے اور ہماری غیر ملکی تجارت کا
مرکز ہے۔ زراعت سے متعلق برامدات پاکستان کی کل برآمدات میں سے 45 فیصد ہیں، اس
میں جی ڈی پی کا 26 فیصد حصہ آتا ہے، اور مجموعی طور پر 52 فیصد آبادی اس شعبے سے
جڑی ہوئی ہے اور اپنی معیشت کما رہی ہے ۔پاکستان کے67.5 فیصد لوگ دیہی علاقوں میں
رہتے ہیں اور اس میں براہ راست ملوث ہیں۔ پاکستان میں فصلوں کی کاشت کو موسم کے
حساب سے دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہےجو کہ "ربیع" اور "خریف"
ہیں ۔
پچھلے
سال اہم فصلوں کی پیداوار کا پاکستان کی معیشت میں 77 فیصد حصہ رہا ہے ،معمولی فصلیں جیسے کینولا پیاز اور دالوں
نے 3.6 فیصد حصہ ڈالا جبکہ مچھلی اور جنگلات نے بالترتیب 16.6 فیصد اور 8.8 فیصد حصہ شامل کیا اگرچہ پاکستان
میں زراعت کے شعبے کو مشکلات کا سامنا
کرنا پڑتا ہے، تاہم ابھی تک اس بڑے شعبے سے پیسے کا بڑا حصہ آتا ہے۔ اب ہم پاکستان
میں موجود زراعت کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالیں گے ، زراعت کو درپیش مسائل کو ان
اہم حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: جن میں سب سے پہلے مشینی اور اقتصادی چیلنجز آتے
ہیں۔
پاکستان میں مٹی کی زرخیز پرت کی موٹائی 6 انچ ہے
لیکن اوسط پیداوار دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے جہاں زرعی مادہ کی
موٹائی صرف چار انچ ہے، ایسا اس لئے ہے کیونکہ پاکستان میں مٹی کی کشیدگی کو ختم
کرنے کے لیے کوئی میکنیزم نہیں اپنایا گیا
حتیٰ کہ ایک فصل کی کٹائی کے بعد زمین کی زرخیزی کو بحال کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا
جاتا لہذا پاکستان میں زمین کی زرخیزی کی کمی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی
ندیوں میں پانی خرابی سے بھی کم سطح پر گر گیا ہے اس کا سبب صرف بارشوں میں کمی
نہیں ہے ، بلکہ بھارت دریاؤں کے بہاؤ کو
محدود کر رہا ہے جو کہ بھارت سے نکلتے ہیں اور اس کے بعد پاکستان میں داخل ہوتے
ہیں خاص طور پر دریائے سندھ، دریائےچناب
اور دریائےجہلم جو کہ ہندوستانی مقبو ضہ
کشمیر سے نکلتے ہیں۔ پاکستان نے بھارت کے پانی کے منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے لیکن
ورلڈ بینک کے ایک مقررہ اور معتبر "غیرجانبدار" ماہر نے پاکستان کے
اعتراضات میں سے اکثر کو مسترد کردیا جب کہ بھارت کو نئے بننے والے ڈیم کی اونچائی
میں تبدیلیوں کی بھی پیشکش کی گئی۔ پاکستانی مبصرین، دباؤ گروہوں اور رہنماؤں کو یقین ہے کہ پاکستان
کی زراعت کو مسائل کا شکار کرنے کے لیے بھارت دریاؤں کے پانی کو کنٹرول کر رہا ہے
جو یقینی طور پر پاکستانی برآمدات پر اثرانداز ہوگا اور اشیائے خوردنوش کی درآمدات
پر انحصار میں اضافہ کرے گا ۔ پانی کے وسائل میں پانچواں امیر ترین ملک ہونے کے
باوجود ایک اندازے کے مطابق پاکستان ہر سال 13 ملین کیوسک (تقریبا تین لاکھ 68 ہزار
119 کیوبک میٹر پر سیکنڈ) پانی اپنے دریاؤں سے سمندر میں جانے کی وجہ سے ضائع کر
دیتا ہے، کیونکہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے
ڈیمز نہیں ہے۔ پورے ملک میں ابھی تک فلڈ اریگیشن کا سسٹم رائج ہے جس کی وجہ سے
تقریبا 50 سے 60 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ جبکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ڈرپ
آبپاشی کے نام سے آبپاشی کا ایک نیا نظام متعارف کروایا جا چکا ہے یہ نہ صرف پانی
بچاتا ہے بلکہ پودوں کی ضروریات کے مطابق مناسب مقدار میں پانی فراہم کرتا ہے۔ اس
کے علاوہ کشتی اور کٹائی کے روایتی طریقے پر انحصار پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار پر
بہت بری طرح اثر انداز ہوتا ہے، جو کہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت صرف 4/1 ہے ۔ پاکستان
میں 45 فیصد مزدور قوت یعنی لیبر فورس اس شعبے سے منسلک ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک
میں یہ شرح صرف 5 فیصد ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ لیبر کے استعمال کے
سبب دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک فی ایکڑ پیداوار زیادہ حاصل کر رہے ہیں ۔واٹر لوگنگ
یعنی زیرزمین ہوا کے سوراخوں کا ختم
ہوجانا اور سیلینٹی یعنی زیرزمین نمک کے ذخائر کی زیادتی نے زرعی شعبے کی کارکردگی
کو نہایت بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 0.10 ملین ایکڑ رقبہ ان دو
مسائل کا شکار ہو کر نا قابل کاشت ہو رہا ہے، یہ صرف زمین کا نقصان نہیں بلکہ
پیداوار میں بھی کمی کا باعث ہے، پاکستان کا مجموعی رقبہ 79.6 ملین ہیکٹر ہے۔جبکہ
اس میں سے صرف 23.7 ہیکٹیئر یعنی 28 فیصد رقبہ زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا
ہے۔ تقریبا 8 ملین ہیکٹر غیر معقول اور غیر استعمال شدہ رقبہ ہے، جدید آدانوں کی
فراہمی جیسے کہ ایچ وائے وی بیج، کیمیائی
کھادیں، کیڑے مار ادویات اور جدید مشینری کا استعمال بہت مہنگا ہے ۔ پاکستان میں
کھاد کی پیداوار کے یونٹس کی تعداد صرف 10 ہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار ترقی
یافتہ ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ زرعی پیداوار کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے زرعی
تحقیق میں مسلسل بہتری لانا ہوگی مگر اس مقصد کے لیے بھی پاکستان کو دشواری کا
سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں کل زرعی یونیورسٹیوں اور کالجز کی تعداد صرف 16 ہے ۔ پاکستان
میں زراعت کو درپیش مسائل میں دوسرے نمبر پر قدرتی مسائل آتے ہیں جن میں پودوں کی
مختلف قسم کی بیماریاں، فصل پر کیڑوں کا حملہ آور ہونا، قدرتی آفات جیسے سیلاب ،بارش،
زمینی کٹاؤ وغیرہ کا ہونا شامل ہے ۔ زرعی شعبے میں مزدوری انسان کے ہاتھ میں ہے
لیکن اس کا نتیجہ اللہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ پاکستان میں غیر ضروری بارش اور
غیر معمولی موسمی صورت حال کی وجہ سے
پیداوار میں 20 فیصد کمی ہوتی ہے۔زراعت کو درپیش مسائل میں تیسرے نمبر پر مالیاتی
مسائل آتے ہیں ، بنیادی طور پر ہمارے کسان غریب ہیں اور ان کی آمدنی بہت کم ہے ، پاکستان کے کسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ
وہ پیدا بھی قرض میں ہوتا ہے ، زندگی بھی قرض میں گزارتا ہے اور مرتا بھی قرض کی
حالت میں ہے، پاکستان میں زرعی کریڈٹ کی
سہولیات عام نہیں ہیں ،کہ ان غریب کسانوں کو مالیاتی مدد دینے کے لیے غیر ادارہ ذرائع
موجود ہیں لیکن یہ ادارے اعلیٰ شرح سود کی وجہ سے قابل اعتماد نہیں ہے ۔ پاکستان
میں تقریبا 50.8 فیصد غریب کسان جاگیرداروں سے قرضہ لینے پر مجبور ہیں ۔پاکستان کے
کسانوں کی مالی حیثیت بہت کمزور ہے، 2003 میں آنے والی" پاکستان انسانی ترقی
کی رپورٹ "کے مطابق 57.4 فیصد غریب کسانوں کو جاگیرداروں کے لیے بنا تنخواہ کے کام
کرنا پڑتا ہے ،یہ تمام مسائل پاکستان میں زراعت کو پنپنے سے روک رہے ہیں اور زراعت
کی مسلسل بدحالی کا باعث بن رہے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں زراعت کا
شعبہ ترقی کرے تو ہمیں ان مسائل کا دیرپا اور پائیدار حل کرنا ہوگا اس کے لئے
مندرجہ ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
چونکہ غریب کسان جدید ٹیکنالوجی کو نہیں خرید
سکتا اسی لئے اسے زرعی قرضہ جات کی فراہمی بہت ضروری ہے اسی مقصد کے لئے 2009 میں
85،177 ملین روپے تجارتی بینکوں کی طرف سے تقسیم کئے گئے تھے ،جبکہ زرعی ترقیاتی
بینک کی طرف سے سال 2010-2011 میں 37.4 ملین روپے جاری کیے گئے۔ واٹر لاگنگ اور سیلنیٹی
ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اسے روکنا بہت ضروری ہے، اسے روکنے کے لیے ٹیوب ویل لگانا ، نہروں کے بنوں کی مرمت اور نکاسی آب کا
بندوبست کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ وزارت
زراعت نے 18.5 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز دی ہے جس کا مقصد 2 لاکھ ایکڑ
زمین کو ڈرپ اور شاور ایریگیشن میں تبدیل کرنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ نئے ڈیمز کی
تعمیر ، ایچ
وائے وی بیج کی فراہمی، جدید مشینری کی فراہمی، زراعت کے شعبے میں ریسرچ
کو بڑھانا، زرعی بنیادوں پر قائم صنعتوں جیسے کہ پولٹری، ماہی گیری اور ڈیری جیسی صنعتوں کی ترقی اور ان جیسی نئی صنعتوں کا
قیام ، زرعی مشینری کی درآمدات پر ٹیکس سے
چھوٹ یا سبسڈی دینا، کسانوں کو زراعت کے جدید طریقوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت
کی طرف سے سپیشل ایجوکیشن پروگرام شروع کرنا، کسانوں کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ
زرعی اجناس کی قیمتوں کی وصولی کا یقینی بنانا بہت ضروری ہے ۔ایک زرعی ملک ہونے کے
باوجود پاکستان میں زراعت کا شعبہ ابھی تک پسماندہ ہے زراعت کے شعبے کے تمام مسائل
کو دور کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ، کریڈٹ کی سہولیات یقینی بنانا اور
زراعت میں ریسرچ کی سہولیات کا استعمال بہت ضروری ہے۔

0 تبصرے: